& Poets

Al-Quds by Dr. Y.M.Yad

 
 

 

 

                  

نام کتاب:القدس(یروشلیم)

محقق و مصنف: ڈاکٹر یوسف مسیح یاد

ناشر:مکتبہ عناویم (گوجرانوالہ)

سن اشاعت: ٢٠٠٣

صفحات :١٦٤

 

 

القدس(یروشلیم شہر)، گزشتہ کئی صدیوں سے یہودیت ، مسیحیت ، اور اسلام، تینوں ابراہیمی مذاہب کے

پیروکاروں کے لئے مذہبی عقیدت، روحانی وابستگی ، اور سیاسی و فوجی کشمکش کا مرکز بنا رہا ہے . جو بین الاقوامی اہمیت اس

شہر

کو نصیب ہوئی ہے دنیا کے کسی اور شہر کو نہیں ہوئی.اور جتنی خون ریزی اور تباہ کاریاں اس شہر کے حصہ میں آئی ہیں ک اورشہر کے حصہ میں نہیں آئیں . تاریخ ، ادب، سیاسیات لسانیا ت، اور مذاہب عالم کا کوئی س طالب علم اس شہر کی مرکزی اہمیت کو نظرانداز نہیں کر سکتا ،

ڈاکٹر یوسف مسیح یاد، نےجہاں اور متعدد اہم مضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور اپنی تحقیق، تالیف اور فن تصنیف کا لوہا کئی بار منوایا ہے ، وہاں پر انھوں نے "القدس (یروشلیم)" لکھ کر ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ موجودہ مسیحی علما میں آپ مسیحی تاریخ کے ہر اہم پہلو پر عالمانہ عبور رکھتے ہیں . اس کتاب کو پڑھنے سے یوں لگتاہے گویا کہ مصنف نے اس شہر میں ایک عمر گزاری ہو ، شہر کی منظرکشی کچ اس انداز سے کی گئی ہے کہ یہ سب آنکھوں دیکھا حال محسوس ہوتا ہے.

سب سے پہلے یروشلیم کا محل وقوع بیان کیا گیا ہے . سات پہاڑوں سے گھرا ہوا یہ خوبصورت شہر مسیحیوں کے لئے اس لئے بھی بہت دلچسپی کاباعث ہے کہ ان پہاڑوں میں تین پہاڑی چوٹیاں ایسی ہیں جن کاتعلق براہ راست خداوند یسو ع مسیح کی زمینی خدمت سے ہے : ٹھوکر کا پہاڑ،کوہ کلوری اور صعود کاپہاڑ.

ڈاکٹر صاحب نے یروشلیم کی تاریخ اور تاریخی واقعیات کی اہمیت اور ان کی تاریخیت پر بھی کھل کے روشنی ڈالی ہے. کتاب کے باب سوئم "تاریخی پس منظر " میں وہ اس کی تاریخ ٢٠٠٠ ق م سےشرو ع کرتے ہیں (آثارقدیمہ کا حوالہ ). یہ ابتدائی طور پر یبوسیوں کا شہر تھا ،پھریوسیفس(یہودی موؤرخ ) اور مقدس صحا یف کے متعددحوالے دے کر مصنف اس کی تاریخ کے مختلف ادوارکا احاطہ کرتا ہے. یہ شہر متعدد بارتباہ ہوا(بقلم ڈاکٹر یاد صفحہ٢٥: ٢٠ بار ،بقلم ڈاکٹرعا صی صفحہ ١٠ ٧ بار ) تاہم مختلف مورخؤںمیں بھی اس بات میں اختلاف پایا جاتا ہے، اہم بات یہ ہے کہ شہر جتنی مرتبہ تباہ ہوا اتنی مرتبہ پھرتعمیر ہوا . یروشلیم کی آخری تباہی سن ٧٠ میں طیطس کے وقت میں ہوئی (اس تباہی کی پشین گوئی خداوند یسوع مسیح نی کی تھی ).اسکے بعد یروشلیم مسیحی تاریخ کا مرکز بن گیا .

مصنف نے شہرکی منظر کشی میں اس کی گلیوں ، دیواروں ، دروازوں اور پھاٹکوں کا بھی بڑا مفصل ذکر کیا ہے . ان دروازوں اور پھاٹکوں کا ذکر بائبل مقدس کی آیات کے حوالے دے کر پڑھنے والے کے لئے روحانی مسرت کاسبب بنتا ہے . صفحہ ٨١ پر یہودی حب الوطنی اوردینداری کے حوالے سے مشہور زمانہ دیوار گریہ کا بھی تفصیلی ذکر ملتا ہے.
 

یروشلیم کا تعلق ٦ ہیکلوں سے ہے.
١. عارضی اورسادہ خیمہ گاہ جو بنی اسرائیل عبادت اور دینی رسومات کے لیےاستمعلل کرتے تھے.
٢. پہلی باقاعدہ ہیکل جوحضرت سلیمان نے بنوائی.
٣. دوسری ہیکل زروب بابل کے ساتھ یہودیوں نے ٧٠ سالہ اسیری کے بعد بنائی
٤.تیسری ہیکل ہیرودیس نے بنوائی جو خداوند یسو ع مسیح کے وقت میں قائم تھی
٥. خداوند یسو ع مسیح کا بدن (یوحنا ٢: ١٩-٢١)
٦ .آسمانی ہیکل یعنی آنے والے یروشلیم کی ہیکل

 

ڈاکٹر صاحب نے مسیحیت کے حوالے سے اس میں پاۓ جانے والے تمام مقامات زیارت کا بیان بھی بڑے دلچسپ اور مفصل طریقے سے کیا ہے. اس کے علاوہ القدس میں پائی جا نے والی کلسیاوں کی مکمل تفصیل اس کتاب میں موجود ہے. مسیحی طلبہ تاریخ اوردانشوروں کے لئے "القدس (یروشلیم)" ایک خاص تحفه ہے . میں نے گزشتہ چند ماہ میں اس کتاب کو کئی بار پڑھا ہے اور ہر بار ڈاکٹر صاحب کی محنت اور علمیت سے متاثر ہوۓ بغیر نہیں رہ سکا. میں چونکہ خود مسیحی تاریخ اور مسیحی اردو ادب کے حلقوں میں ابھی طفل مکتب کی حیثیت رکھتا ہوں اس لئے نہیں چاہتا کہ میرے یہ چند الٹے سیدھے جملۓ اس کتاب کے متعلق تبصرہ سمجھےجائیں . میرے ان جملوں کو اگر آپ اس کتاب کا ادنی سا تعا رف سمجھ کر قبول فرمائیں تو زیادہ مناسب ہو گا.

"القدس (یروشلیم )" اس موضوع پرایک نہایت عمدہ اور مکمل کتاب ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس کا مطا لعہ آپ کے لئے بھی اتنی ہی برکت کا سبب ہو گا جتنا کہ یہ میرے لئے ہوا ہے.

(اختر انجیلی)